مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی وزارت دفاع و مسلح افواج کی معاونت کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل رضا طلایی نیک نے ملک کی دفاعی صنعت کی صورت حال اور دفاعی صلاحیتوں میں اضافے کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ قومی سلامتی، خودمختاری اور ملک کے وجود کے تحفظ کے لیے قومی طاقت میں اضافہ بنیادی حکمت عملی ہے۔
انہوں نے ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جو طاقتیں ممالک کی خودمختاری، وجود اور شناخت کو نشانہ بناتی ہیں، ان کے مقابلے کا واحد راستہ مضبوط اور طاقتور بننا ہے۔ قومی طاقت ہی ایران کی آزادی، سلامتی، قومی تشخص اور مفادات کے تحفظ کی بنیادی ضمانت ہے۔
جنرل طلایی نیک نے موجودہ عالمی نظام کو تین بڑے دھڑوں میں تقسیم کرتے ہوئے کہا کہ ایک دھڑا بالادستی اور تسلط کا خواہاں ہے، جس کی قیادت امریکہ کر رہا ہے اور اسرائیل سمیت متعدد ممالک اس کے ساتھ ہیں۔ اس دھڑے کی پالیسی دیگر اقوام کے وسائل اور مفادات پر قبضہ اور ان کی خودمختاری سلب کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ دوسرا دھڑا ان ممالک پر مشتمل ہے جو حقیقی خودمختاری نہیں رکھتے اور عملا دوسروں کے زیر اثر ہیں۔ ایسے ممالک کے مفادات اور صلاحیتیں بیرونی طاقتوں کے اختیار میں ہوتی ہیں اور وہ بالادست طاقتوں کے مفادات کا نشانہ بن جاتے ہیں۔
وزارت دفاع کے ترجمان نے مزید کہا کہ تیسرا دھڑا ان ممالک پر مشتمل ہے جو بیرونی تسلط قبول نہیں کرتے اور بالادستی کے نظام کا مقابلہ کرتے ہیں۔ اسلامی جمہوریہ ایران بھی آج سامراجی طاقتوں کے خلاف مزاحمت کرنے والے ممالک کی ابتدائی صفوں میں شامل ہے۔
دفاعی صنعت کی ترقی کے بارے میں جنرل طلایی نیک نے کہا کہ ایران کی موجودہ دفاعی صلاحیت اور دفاعی صنعت کا ماضی کی جنگ کے دور سے کوئی موازنہ نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ ملک نے اس شعبے میں نمایاں ترقی کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ دفاعی طاقت کو ممکنہ خطرات کے مقابلے میں بھرپور اور بروقت کردار ادا کرنے کے لیے جدید جنگی حکمت عملی اور تدابیر، بہادر، مومن اور تجربہ کار اہلکار، مناسب فوجی تنظیم اور خطرات کے مطابق جدید ہتھیاروں و دفاعی ساز و سامان کی ضرورت ہوتی ہے۔
جنرل طلایی نیک نے دفاعی صنعت کی پیداوار کے اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران، یعنی گزشتہ سال جولائی سے رواں سال جولائی تک، ملک میں ہتھیاروں اور دفاعی ساز و سامان کی پیداوار میں دو گنا اضافہ ہوا ہے۔ یہ اضافہ ایسے وقت میں ہوا جب 12 روزہ جنگ کے دوران دفاعی صنعت کے بعض محدود اور مخصوص مراکز بھی دشمن کے حملوں کا نشانہ بنے اور ان میں سے بعض کو نقصان پہنچا۔
وزارت دفاع کے ترجمان نے مزید کہا کہ 29 فروری سے شروع ہونے والی تیسری جنگ کے دوران بھی ٹرمپ اور نیتن یاہو کے دعووں کے برخلاف دفاعی مصنوعات کی پیداوار نہ صرف بند نہیں ہوئی بلکہ جنگ کے دوران بعض اہم دفاعی مصنوعات اور جنگی ضروریات سے متعلق ترجیحی ساز و سامان کی پیداوار معمول کی سطح کے مقابلے میں تین گنا سے بھی زیادہ بڑھا دی گئی۔
جنرل طلایی نیک نے مسلح افواج اور دفاعی صنعت سے متعلق معلومات اور فوجی رازوں کے تحفظ کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دشمن کو حیران کرنے اور ممکنہ کمزوریوں سے بچنے کے لیے مسلح افواج، دفاعی صنعت اور دفاعی معاونت کے نظام سے متعلق معلومات کو حتی الامکان محفوظ رکھنا ضروری ہے۔ گزشتہ سال اور رواں سال دفاعی صنعت کے دن کے موقع پر فوجی نمائش منعقد نہ کرنے اور بڑی تعداد میں دفاعی مصنوعات کی رونمائی روکنے کی ایک اہم وجہ بھی یہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ سال بھی انہوں نے میڈیا سے گفتگو میں واضح کیا تھا کہ دشمن کو حیران کرنے اور ملک کے دفاعی رازوں اور معلومات کے تحفظ کے لیے ہتھیاروں اور دفاعی ساز و سامان کی رونمائی محدود کر دی گئی ہے۔
آپ کا تبصرہ